پینسٹھ برس کی عمر اور نئی شروعات
جس عمر میں زیادہ تر لوگ ریٹائر ہو جاتے ہیں، ہارلینڈ سینڈرز نے سڑک کنارے کا وہ ریستوران کھو دیا جسے بنانے میں انہوں نے پچیس برس لگائے تھے۔ ان کے پاس پنشن کا ایک چیک، ایک پرانی گاڑی اور فرائیڈ چکن کی ایک ترکیب تھی۔ سو انہوں نے پھر سے شروع کیا۔
- 4 منٹ کا مطالعہ
- Ages 12+
- Biography
- 1890s–1980s
1956 میں کینٹکی میں ایک نئی شاہراہ کھلی۔ وہ تیز رفتار اور چوڑی تھی، اور مسافروں کو آرام سے شمال سے جنوب لے جاتی تھی۔
مگر وہ کوربن نام کے چھوٹے سے قصبے سے کئی میل دور سے گزرتی تھی، جہاں سفید بالوں والا ایک آدمی پرانی سڑک کے کنارے ایک مصروف ریستوران چلاتا تھا۔ تقریباً راتوں رات گاڑیوں کا آنا بند ہو گیا۔
ہارلینڈ سینڈرز پینسٹھ برس کے تھے۔ جو کاروبار انہوں نے چوتھائی صدی میں کھڑا کیا تھا، اس کی قیمت اچانک نہ ہونے کے برابر رہ گئی۔
کھانا پکانے والا لڑکا
ہارلینڈ سینڈرز 9 ستمبر 1890 کو انڈیانا کے ہینری وِل کے قریب پیدا ہوئے۔ جب وہ پانچ برس کے تھے تو ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔
ان کی ماں کو کام پر جانا پڑا، کبھی کبھی کئی کئی دن کے لیے۔ وہ ڈبہ بندی کے ایک کارخانے میں ٹماٹر چھیلتیں اور دوسرے گھروں کے کپڑے سیتی تھیں۔ ہارلینڈ، جو سب سے بڑے تھے، اپنے چھوٹے بھائی اور بہن کی دیکھ بھال کرتے۔ انہوں نے ان کے لیے کھانا پکانا سیکھ لیا، اور بعد میں بتایا کہ سات برس کی عمر تک وہ اچھی ڈبل روٹی بنا لیتے تھے۔
انہوں نے جلد ہی اسکول چھوڑ دیا۔ اس کے بعد ایک کے بعد ایک نوکریوں کا لمبا سلسلہ شروع ہوا۔ انہوں نے کھیتوں میں مزدوری کی اور ٹرام میں کنڈکٹر رہے۔ کچھ عرصے کے لیے فوج میں بھرتی ہوئے۔ ریلوے میں فائرمین کا کام کیا، یعنی بھاپ کے انجنوں میں کوئلہ جھونکتے رہے۔ انہوں نے خط و کتابت کے ذریعے قانون پڑھا اور آرکنساس میں کچھ عرصہ وکالت کی، یہاں تک کہ ایک دن عدالت ہی میں اپنے موکل سے ہاتھا پائی کر بیٹھے۔ انہوں نے بیمہ بیچا، کشتی والی فیری چلائی، اور ٹائر بیچے۔
وہ محنتی تھے، مگر غصے کے تیز تھے، اور ایک سے زیادہ نوکریوں سے نکالے گئے۔ چالیس برس کی عمر تک اس ساری محنت کے بدلے ان کے پاس دکھانے کو بہت کم تھا۔
سروس اسٹیشن
1930 کے آس پاس، عظیم کساد بازاری کے دنوں میں، سینڈرز نے کینٹکی کے کوربن میں سڑک کنارے کا ایک سروس اسٹیشن سنبھالا۔ مسافر وہاں ایندھن کے لیے رکتے تھے، اور ان میں سے بہت سے بھوکے ہوتے تھے۔
سو انہوں نے ان کے لیے کھانا پکانا شروع کر دیا۔ شروع میں وہ اسٹیشن کے پیچھے اپنے رہنے کے حصے میں اپنے گھر کی کھانے کی میز پر ہی کھانا کھلاتے تھے۔ لوگ ایندھن کے لیے آتے اور کھانے کے لیے رک جاتے۔ وقت کے ساتھ انہوں نے سڑک کے پار ایک باقاعدہ ریستوران کھولا، اور پھر ایک موٹل۔
ان کا فرائیڈ چکن پوری شاہراہ پر مشہور ہو گیا۔ وہ ہر کام میں کمال چاہتے تھے، اور برسوں اس کوشش میں لگے رہے کہ اسے ذائقہ کھوئے بغیر جلدی پکایا جا سکے۔ کڑاہی میں چکن تلنے میں بہت وقت لگتا تھا۔ انہیں پتا چلا کہ باورچی خانے کی ایک نئی ایجاد، پریشر ککر، کو اس طرح ڈھالا جا سکتا ہے کہ چکن کہیں جلدی تل جائے، اور انہوں نے جڑی بوٹیوں اور مسالوں کا ایک آمیزہ تیار کیا جسے وہ راز رکھتے تھے۔
1935 میں کینٹکی کے گورنر نے انہیں کینٹکی کرنل کا اعزازی خطاب دیا، جو ریاست ان لوگوں کو دیتی ہے جنہیں وہ عزت دینا چاہتی ہے۔ انہیں یہ خطاب اتنا پسند آیا کہ وہ عمر بھر اسے استعمال کرتے رہے۔
آگ، اور شاہراہ
کوربن میں ان کے برس آسان نہیں تھے۔ 1939 میں آگ نے ان کا موٹل اور ریستوران جلا ڈالا۔ انہوں نے پھر سے تعمیر کیا۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران پیٹرول راشن پر ملنے لگا، سفر گھٹ گیا، اور کاروبار بری طرح گر گیا۔
پھر نئی شاہراہ آئی۔ 1956 میں سینڈرز نے اپنا ریستوران نیلامی میں بیچ دیا۔ قرض چکانے کے بعد ان کے پاس تقریباً کچھ نہ بچا۔ وہ اپنی پہلی سرکاری پنشن کے چیک پر گزارا کر رہے تھے، جو سو ڈالر سے کچھ ہی زیادہ تھا۔
پھر سے سڑک
چند برس پہلے انہوں نے یوٹاہ کے ایک ریستوران مالک پیٹ ہارمن سے ایک معاہدہ کیا تھا، جس نے کرنل کا چکن بیچنا شروع کیا تھا اور ہر بکنے والے چکن پر سینڈرز کو چند سینٹ دیتا تھا۔ یہ طریقہ خوب چلا تھا۔
اب سینڈرز نے فیصلہ کیا کہ یہی ان کی نئی زندگی ہوگی۔ انہوں نے ایک پریشر ککر اور اپنے مسالوں کا آمیزہ گاڑی میں رکھا اور اپنی بیوی کلاڈیا کے ساتھ ملک بھر کے سفر پر نکل پڑے۔ وہ کسی ریستوران میں جاتے اور مالک اور عملے کے لیے اپنا چکن پکانے کی پیشکش کرتے۔ اگر انہیں پسند آتا تو وہ انہیں ایک سودے کی پیشکش کرتے۔
بہت سوں نے انکار کیا۔ یہ قصہ اکثر سنایا جاتا ہے کہ انہیں سینکڑوں بار ٹھکرایا گیا، اگرچہ صحیح گنتی کسی کو معلوم نہیں۔ کبھی کبھی وہ پیسے بچانے کے لیے اپنی گاڑی کی پچھلی سیٹ پر سو جاتے۔ کلاڈیا گھر پر مسالے ملاتیں، پیک کرتیں اور ان ریستورانوں کو بھیجتیں جو معاہدہ کر لیتے۔
آہستہ آہستہ ریستورانوں کی تعداد بڑھتی گئی۔ 1960 کی دہائی کے شروع تک شمالی امریکہ بھر میں ان کی تعداد سینکڑوں تک پہنچ چکی تھی۔
سفید سوٹ
1964 میں، تہتر برس کی عمر میں، سینڈرز نے کمپنی کاروباری لوگوں کے ایک گروہ کو بیچ دی، مگر اس کا عوامی چہرہ بنے رہے۔ اپنے مشہور سفید سوٹ اور کالی ڈوری والی ٹائی میں وہ ریستورانوں کا معائنہ کرنے دنیا بھر گھومے۔ جب کھانا ان کی پسند کے مطابق نہ پکا ہوتا تو وہ سخت تنقید بھی کر سکتے تھے۔
انہوں نے اپنا بہت سا پیسہ گرجا گھروں، اسپتالوں اور بچوں کے خیراتی اداروں کو دیا۔ وہ تقریباً آخر تک کام کرتے رہے۔ ہارلینڈ سینڈرز کا انتقال 16 دسمبر 1980 کو نوے برس کی عمر میں ہوا۔
مزید پڑھنا چاہتے ہیں؟
ہارلینڈ سینڈرز نے اپنی کہانی اپنی خودنوشت Life As I Have Known It Has Been Finger Lickin' Good میں خود سنائی ہے۔ جوش اوزرسکی کی Colonel Sanders and the American Dream ایک مختصر اور فکر انگیز سوانح ہے۔