پتھر کا شوربا
ایک بھوکا مسافر ایک ایسے گاؤں میں پہنچتا ہے جہاں کوئی کچھ بانٹنے کو تیار نہیں۔ وہ بس پانی سے بھرا ایک دیگچہ اور آگ مانگتا ہے، کیونکہ اسے پتھر سے شوربا بنانا آتا ہے۔
- 3 منٹ کا مطالعہ
- Ages 5–9
- Fable & folk tale
سفر لمبا اور ٹھنڈا تھا، اور مسافر کو بہت بھوک لگی تھی۔
جب اس نے وادی کے نیچے وہ چھوٹا سا گاؤں دیکھا، جس کی چمنیوں سے دھواں بل کھاتا اوپر اٹھ رہا تھا، تو اس کا دل خوش ہو گیا۔ وہاں کوئی نہ کوئی تو اسے گرم گرم کھانے کا ایک پیالہ ضرور دے گا۔
لیکن گاؤں پر سردیاں بہت سخت گزری تھیں۔ جب لوگوں نے ایک اجنبی کو سڑک سے آتے دیکھا تو وہ جلدی جلدی اپنا کھانا چھپانے لگے۔ انہوں نے آلوؤں کی بوریاں پلنگوں کے نیچے دھکیل دیں۔ گاجریں الماریوں میں ٹھونس دیں اور پیاز تہہ خانے میں لٹکا دیے۔ بند گوبھیاں اٹاری میں رکھ دیں۔
مسافر نے پہلے دروازے پر دستک دی۔
"معاف کرنا،" دروازہ کھولنے والی عورت نے کہا۔ "ہمارے پاس دینے کو کچھ نہیں۔ وقت بڑا سخت ہے۔"
اس نے دوسرے دروازے پر دستک دی، پھر تیسرے پر۔ ہر جگہ یہی جواب ملا۔ "دینے کو کچھ نہیں۔ کچھ بھی نہیں۔"
ایک دیگچہ اور ایک پتھر
مسافر چلتا ہوا گاؤں کے چوک کے بیچ میں پہنچا۔ وہ کنویں کے پاس بیٹھ گیا، سوچتے ہوئے چاروں طرف دیکھا، اور جیب سے ایک چکنا سا سرمئی پتھر نکالا۔
"خیر،" اس نے اونچی آواز میں کہا، "اگر کسی کے پاس کھانا نہیں ہے، تو لگتا ہے مجھے پتھر کا شوربا ہی بنانا پڑے گا۔"
کچھ دروازے ذرا سے کھلے۔
"پتھر کا شوربا؟" ایک لڑکے نے کہا۔ "وہ کیا ہوتا ہے؟"
"دنیا کا سب سے مزے دار شوربا،" مسافر نے کہا۔ "مجھے بس ایک بڑا دیگچہ، تھوڑا پانی اور آگ چاہیے۔"
اب گاؤں والوں کو تجسس ہوا۔ بڑا دیگچہ ادھار دینے میں کوئی خرچ نہیں تھا، اور پانی دینے میں بھی نہیں۔ چنانچہ ایک بوڑھا آدمی اپنا سب سے بڑا دیگچہ لے آیا۔ کچھ بچے کنویں سے بالٹیاں بھر لائے۔ کوئی اور لکڑیاں لے آیا، اور جلد ہی چوک کے بیچوں بیچ پانی کھدبد کھدبد ابلنے لگا۔
مسافر نے بڑی شان سے اپنا پتھر اس میں ڈالا، اور چمچ چلانے لگا۔
بس تھوڑی سی کوئی چیز
اس نے چکھا۔ "واہ،" اس نے کہا۔ "کمال ہے۔ ویسے پتھر کا شوربا تھوڑی سی بند گوبھی کے ساتھ اور بھی اچھا لگتا ہے۔ لیکن کوئی بات نہیں۔ ہم اس کے بغیر بھی کام چلا لیں گے۔"
"میرا خیال ہے میرے پاس ایک بند گوبھی ہو گی،" ایک عورت نے کہا۔ "بس ایک۔" اور وہ اسے اپنی اٹاری سے لے آئی۔
مسافر نے پھر چمچ چلایا اور چکھا۔ "آہا، اب بہتر ہے۔ ایک بار میں نے کچھ گاجروں والا پتھر کا شوربا کھایا تھا، وہ تو بادشاہوں کے لائق تھا۔ لیکن کوئی بات نہیں۔"
"شاید میں ایک دو گاجریں ڈھونڈ لوں،" کسان نے کہا۔
"اور میرے پاس کچھ آلو ہیں،" نان بائی کی بیوی نے کہا۔
"میرے پاس پیاز ہیں!"
"میرے پاس تھوڑا سا نمک اور کالی مرچ ہے۔"
"میرے پاس کچھ جَو ہیں۔"
"تھوڑا سا گوشت!"
ایک ایک کر کے گاؤں کے لوگ اپنا چھپایا ہوا کھانا نکال لائے۔ دیگچہ بھرتا گیا اور اس کی خوشبو پوری وادی میں پھیل گئی، یہاں تک کہ بلیاں بھی دیکھنے آ گئیں کہ کیا ہو رہا ہے۔
دعوت
آخرکار مسافر نے اعلان کیا کہ شوربا تیار ہے۔ میزیں اور بینچ اٹھا کر چوک میں لائے گئے۔ کسی کو روٹی مل گئی۔ کسی اور کو ایک سارنگی مل گئی۔ سب نے مل کر بیٹھ کر کھانا کھایا، اور یہ پوری سردیوں میں گاؤں کا سب سے اچھا کھانا تھا۔
"ذرا سوچو،" لوگ ایک دوسرے سے کہنے لگے۔ "پتھر سے شوربا! کس نے سوچا تھا؟"
اگلی صبح مسافر نے سب کو خدا حافظ کہا۔ جاتے ہوئے اس نے وہ پتھر اس لڑکے کو دے دیا جس نے سب سے پہلے اس کے بارے میں پوچھا تھا۔
"اسے سنبھال کر رکھنا،" اس نے مسکرا کر کہا۔ "تم دیکھو گے کہ یہ ہر بار کام کرتا ہے، بس شرط یہ ہے کہ ہر کوئی تھوڑی سی کوئی چیز لے آئے۔"
اس کہانی کے بارے میں
پتھر کا شوربا ایک لوک کہانی ہے جو سینکڑوں برسوں سے پورے یورپ میں سنائی جاتی رہی ہے۔ کچھ کہانیوں میں مسافر ایک سپاہی ہوتا ہے؛ کچھ میں وہ کلہاڑی، کیل یا بٹن سے شوربا بناتا ہے۔ یہاں اس کہانی کو مختصر اور آسان کر کے دوبارہ بیان کیا گیا ہے۔