بلٹ ٹرین
1964 میں، جب بہت سے ماہرین مانتے تھے کہ ریل گاڑیوں کا زمانہ گزر چکا ہے، جاپان نے دنیا کی سب سے تیز ریل لائن کھولی۔ اسے ایک ایسے بزرگ نے بنوایا جو ہار ماننے کو تیار نہیں تھا، اور ایک ایسے انجینئر نے جسے اس نے کام مکمل کرنے کے لیے واپس بلایا۔
- 4 منٹ کی کہانی
- Ages 13+
- Historical narrative
- 1955–1964
1 اکتوبر 1964 کی صبح سویرے، سفید اور نیلے رنگ کی ایک لمبی ریل گاڑی ٹوکیو اسٹیشن سے سرکی اور رفتار پکڑنے لگی۔
اس کی ناک گول تھی، کسی ہوائی جہاز کے اگلے حصے جیسی۔ چند ہی منٹوں میں وہ دنیا میں کہیں بھی باقاعدہ سروس میں چلنے والی کسی بھی ریل گاڑی سے تیز دوڑ رہی تھی۔ اس کی سب سے اونچی رفتار 210 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔
نئی لائن اوساکا تک جاتی تھی، جو 500 کلومیٹر سے بھی زیادہ دور تھا۔ جو سفر سب سے تیز پرانی ایکسپریس میں ساڑھے چھ گھنٹے لیتا تھا، وہ اب چار گھنٹے میں ہونے لگا۔ ایک سال بعد، وہ بس تین گھنٹے سے کچھ زیادہ لینے لگا۔
جاپان نے اسے شنکانسن کہا، یعنی "نئی مرکزی لائن"۔ باقی دنیا نے جلد ہی اسے بلٹ ٹرین کہنا شروع کر دیا۔
ایک گنجان ملک
بیس سال سے بھی کم پہلے، دوسری عالمی جنگ کے خاتمے پر، جاپان کا بڑا حصہ کھنڈر بن چکا تھا۔ 1950 کی دہائی تک ملک تیزی سے دوبارہ کھڑا ہو رہا تھا۔ ٹوکیو اور اوساکا کے بیچ ساحل کی تنگ پٹی کارخانوں، دفتروں اور گھروں سے بھرتی جا رہی تھی، اور ان کے بیچ کی پرانی ریل لائن، توکائیدو لائن، دنیا کی مصروف ترین لائنوں میں سے ایک تھی۔
وہ مزید بوجھ نہیں اٹھا سکتی تھی۔ گاڑیاں ایک کے پیچھے ایک جڑی چلتی تھیں۔ مال بھی انتظار کرتا تھا اور مسافر بھی۔
دنیا کے زیادہ تر ماہرین مانتے تھے کہ مستقبل کاروں، موٹر ویز اور ہوائی جہازوں کا ہے۔ امریکہ اور یورپ میں ریلوے زوال پذیر تھی۔ ایک مہنگی نئی ریل لائن بنانا بہت سے لوگوں کو پیچھے کی طرف قدم لگتا تھا۔
بزرگ اور انجینئر
1955 میں شنجی سوگو جاپانی قومی ریلوے کے صدر بنے۔ وہ تب تک 71 برس کے ہو چکے تھے۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی ریلوے کے آس پاس گزاری تھی، اور انہیں پورا یقین تھا کہ جواب ایک بالکل نئی لائن ہے: ایک تیز، سیدھی، چوڑی پٹری والی ریلوے، جو صرف مسافر گاڑیوں کے لیے بنی ہو، اور جس میں ایک بھی ریلوے پھاٹک نہ ہو۔
اسے بنانے کے لیے سوگو کو سب سے اچھے انجینئر کی ضرورت تھی۔ انہوں نے ہیدیو شیما کو چنا، جنہوں نے بھاپ کے انجن ڈیزائن کیے تھے اور کچھ برس پہلے ریلوے چھوڑ چکے تھے۔ شیما کے والد بھی ریلوے انجینئر تھے، جنہوں نے دہائیوں پہلے جاپان میں چوڑی پٹریوں کی وکالت کی تھی۔ سوگو نے شیما کو چیف انجینئر کے طور پر لوٹ آنے پر منا لیا۔
1957 میں ریلوے کے اپنے ادارے کے محققین نے ٹوکیو میں ایک عوامی لیکچر دیا۔ انہوں نے سمجھایا کہ صحیح ٹیکنالوجی ہو، تو ایک ریل گاڑی ٹوکیو اور اوساکا کے بیچ تقریباً تین گھنٹے میں پہنچ سکتی ہے۔ ہال کھچا کھچ بھرا تھا۔ اس خیال نے لوگوں کے تخیل کو اپنی گرفت میں لے لیا۔
سو مشکلوں کا حل
پٹریوں پر اتنی تیزی سے چلنے سے ایسی مشکلیں کھڑی ہوئیں جنہیں پہلے کسی نے حل نہیں کیا تھا۔
200 کلومیٹر فی گھنٹہ پر ڈرائیور پٹری کے کنارے لگے سگنل نہیں پڑھ سکتا، اس لیے سگنل ڈرائیور کے کیبن کے اندر لگائے گئے، اور گاڑی خود بخود اپنی رفتار کم کر سکتی تھی۔ پوری لائن ٹوکیو کے ایک مرکزی کمرے سے چلائی جاتی تھی۔ ڈبوں کو کھینچنے والے ایک بھاری انجن کے بجائے، چھوٹی بجلی کی موٹریں پوری گاڑی میں پھیلا دی گئیں، جس سے پٹری پر اس کا بوجھ ہلکا ہوا۔ پٹریوں کو جوڑ کر لمبے، ہموار حصے بنائے گئے۔
جن انجینئروں نے گاڑی کی شکل پر اور اسے ہلنے سے روکنے پر کام کیا، ان میں سے کچھ جنگ کے دوران ہوائی جہاز ڈیزائن کر چکے تھے۔ اب انہوں نے اپنا ہنر پرامن کام میں لگایا۔ 1963 میں ایک تجرباتی پٹری پر ایک آزمائشی گاڑی 250 کلومیٹر فی گھنٹہ سے بھی تیز دوڑی۔
اس کا خرچ اٹھانے کے لیے جاپان نے 1961 میں عالمی بینک سے 8 کروڑ ڈالر قرض لیے۔ پوری لاگت کے مقابلے میں یہ قرض چھوٹا تھا، لیکن یہ اس بات کی علامت تھا کہ دنیا اس منصوبے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔
ایک خواب کی قیمت
منصوبے پر ابتدائی اندازے سے کہیں زیادہ خرچ ہوا، آخر میں تقریباً دوگنا۔ بہت سے مؤرخ مانتے ہیں کہ سوگو نے شروع میں جان بوجھ کر کم تخمینہ دیا تھا، تاکہ حکومت کام شروع کرنے پر راضی ہو جائے۔ جب اصل لاگت سامنے آئی، تو ہنگامہ مچ گیا۔
1963 میں سوگو نے ذمہ داری قبول کی اور اپنا عہدہ چھوڑ دیا۔ ہیدیو شیما نے بھی جلد ہی عہدہ چھوڑا۔ اگلے سال جب لائن کھلی، ٹوکیو اولمپک کھیل شروع ہونے سے نو دن پہلے، تو ان دونوں میں سے کوئی بھی معزز مہمانوں میں شامل نہیں تھا۔
پھر بھی سب جانتے تھے کہ یہ خواب کس کا تھا۔
روزمرہ کے دنوں کی ایک گاڑی
شنکانسن نے روزمرہ زندگی کو ایسے بدلا جو انجینئروں اور وزیروں سے بہت آگے تک پہنچا۔
ٹوکیو سے اوساکا کا کاروباری سفر اب ایک ہی دن میں، آنا جانا دونوں، ہو سکتا تھا۔ گھرانے ہفتے کے آخر میں دوسرے شہر میں دادا دادی سے ملنے جا سکتے تھے۔ طالب علم چھٹیوں میں آسانی سے گھر جا سکتے تھے۔ لائن کے کنارے کے شہر بڑھے اور پھلے پھولے۔ وقت کے ساتھ شنکانسن لائنیں جاپان کے بڑے حصے میں پھیل گئیں۔
یہ گاڑیاں دو باتوں کے لیے مشہور ہو گئیں۔ یہ وقت پر چلتی ہیں، اور ان کی اوسط تاخیر منٹوں میں نہیں، سیکنڈوں میں ناپی جاتی ہے۔ اور 1964 کے بعد کی اتنی دہائیوں میں، جیسا کہ بڑے پیمانے پر بتایا جاتا ہے، شنکانسن پر پٹری سے اترنے یا ٹکر میں کسی مسافر کی جان نہیں گئی۔
بلٹ ٹرین نے بیرونِ ملک بھی سوچ بدلی۔ ریلوے کا زمانہ ختم نہیں ہوا تھا۔ فرانس، اسپین، چین اور بہت سے دوسرے ملکوں نے آگے چل کر اپنی تیز رفتار ریل لائنیں بنائیں۔
شنجی سوگو کا 1981 میں انتقال ہوا۔ ہیدیو شیما آگے چل کر جاپان کی قومی خلائی ترقیاتی ایجنسی کے سربراہ بنے۔ آج دونوں کو شنکانسن کے بانیوں کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
مزید پڑھنا چاہتے ہیں؟
کرسٹوفر پی۔ ہڈ کی Shinkansen: From Bullet Train to Symbol of Modern Japan پوری کہانی سناتی ہے کہ یہ لائن کیسے بنی اور جاپان کے لوگوں کے لیے اس کے کیا معنی ہو گئے۔ The Journal of Transport History میں روڈرک اے۔ اسمتھ کا مضمون سمجھاتا ہے کہ اس نے دنیا بھر میں تیز رفتار ریل کو کیسے متاثر کیا۔