← Back to stories

Founders

سب کے لیے ایک گاڑی

ہنری فورڈ ایک کسان کا بیٹا تھا جسے گھڑیاں کھول کر دیکھنے کا شوق تھا۔ اس کی پہلی دو کار کمپنیاں ناکام ہو گئیں۔ تیسری کوشش میں اس نے ایک سادہ سی کالی گاڑی بنائی جسے عام خاندان خرید سکتے تھے، اور دنیا کے چلنے کا انداز بدلنے لگا۔

  • 4 منٹ کا مطالعہ
  • Ages 12+
  • Biography
  • 1860s–1920s
اس زبان میں پڑھیں

جون 1896 کی ایک صبح، بہت سویرے، ایک نوجوان انجینئر ڈیٹرائٹ میں اپنے گھر کے پیچھے اینٹوں کے ایک چھوٹے سے شیڈ میں کھڑا اس چیز کو دیکھ رہا تھا جو اس نے بنائی تھی۔

یہ سائیکل کے چار پہیوں پر ٹکا ایک ہلکا سا ڈھانچہ تھا، جس میں پیٹرول کا ایک چھوٹا سا انجن اور موڑنے کے لیے ایک ڈنڈا لگا تھا۔ اس نے اس کا نام کواڈری سائیکل رکھا۔ بس ایک ہی مسئلہ تھا۔ مشین شیڈ کے دروازے سے زیادہ چوڑی تھی۔

چنانچہ ہنری فورڈ نے کلہاڑی اٹھائی اور اینٹوں کی دیوار میں سوراخ کر دیا۔ پھر وہ گاڑی چلاتا ہوا اندھیری، برساتی سڑک پر نکل گیا۔

گھڑیاں ٹھیک کرنے والا کسان کا لڑکا

ہنری فورڈ 30 جولائی 1863 کو مشی گن کے ڈیئربورن کے قریب ایک فارم پر پیدا ہوا۔ اس کے باپ کو امید تھی کہ وہ کسان بنے گا، مگر ہنری کو کھیتوں کی کبھی نہ ختم ہونے والی سخت مشقت ناپسند تھی۔ اسے تو مشینوں سے محبت تھی۔

لڑکپن میں وہ پڑوسیوں کی گھڑیاں کھولتا اور ٹھیک کرتا، اور اس کے لیے خود بنائے ہوئے اوزار استعمال کرتا۔ جب وہ تیرہ برس کا تھا تو اس کی ماں میری کا انتقال ہو گیا۔ اس کا دل ٹوٹ گیا، اور بعد میں اس نے کہا کہ ماں کے بغیر فارم سونا سونا لگتا تھا۔

سولہ برس کی عمر میں وہ ایک مشین شاپ میں شاگرد کے طور پر کام کرنے ڈیٹرائٹ چلا گیا۔ برسوں بعد وہ ایڈیسن الیومینیٹنگ کمپنی میں انجینئر بنا، جو ڈیٹرائٹ کو بجلی فراہم کرتی تھی۔ اس نے ایک کسان کی بیٹی کلارا برائنٹ سے شادی کی، جسے شروع سے اس پر بھروسا تھا، اور ان کا ایک بیٹا ہوا، ایڈسل۔

فرصت کے گھنٹوں میں وہ اپنے انجن پر کام کرتا رہتا۔

دو ناکامیاں

کواڈری سائیکل کے بعد فورڈ گاڑیاں بنانے کو اپنا روزگار بنانا چاہتا تھا۔ 1899 میں اس نے اپنی محفوظ نوکری چھوڑ دی اور ڈیٹرائٹ کے کچھ مالدار لوگوں کی مدد سے ڈیٹرائٹ آٹوموبائل کمپنی شروع کی۔

وہ تقریباً دو سال میں ناکام ہو گئی۔ گاڑیاں مہنگی تھیں اور بننے میں دیر لگتی تھی، اور فورڈ انہیں بیچنے کے بجائے بار بار بہتر بنانا چاہتا تھا۔ پیسہ لگانے والوں کا صبر جواب دے گیا۔

اس نے ایک دوسری کمپنی کے ساتھ پھر کوشش کی۔ اس بار اس نے اپنی زیادہ تر توانائی ریس کی گاڑیاں بنانے پر لگائی، کیونکہ ریس جیتنے سے لوگوں کی توجہ ملتی تھی۔ سرمایہ کار ناخوش ہو گئے، اور فورڈ الگ ہو گیا۔ کمپنی ایک نئے نام سے اس کے بغیر چلتی رہی۔

وہ تقریباً چالیس برس کا ہو چکا تھا۔ وہ سب کے سامنے دو بار ناکام ہو چکا تھا، اور ڈیٹرائٹ کے بہت سے لوگ سمجھتے تھے کہ وہ ایک خواب دیکھنے والا ہے جو کاروبار نہیں چلا سکتا۔

تیسری کوشش

1903 میں اس نے سرمایہ کاروں کے ایک چھوٹے سے گروہ کے ساتھ فورڈ موٹر کمپنی کی بنیاد رکھی۔

اس بار اس کے ذہن میں ایک صاف خیال تھا۔ اس وقت گاڑیاں زیادہ تر امیروں کے کھلونے تھیں۔ فورڈ عام لوگوں کی بڑی تعداد کے لیے گاڑی بنانا چاہتا تھا: مضبوط، سادہ، آسانی سے ٹھیک ہونے والی، اور اتنی سستی کہ کوئی کسان یا کارخانے کا مزدور بھی خرید سکے۔

یکم اکتوبر 1908 کو کمپنی نے ماڈل ٹی پیش کی۔ وہ زمین سے کافی اونچی تھی، تاکہ اس زمانے کی کیچڑ بھری، گڑھوں والی دیہاتی سڑکیں پار کر سکے۔ وہ ہلکی اور سخت جان تھی۔ کوئی کسان سادہ اوزاروں سے اسے ٹھیک کر سکتا تھا۔ لوگوں نے اس کے عرفی نام رکھے اور اس پر لطیفے سنائے، اور اسے بے حساب خریدا۔

چلتی ہوئی لائن

مانگ اتنی زیادہ تھی کہ کمپنی تیزی سے گاڑیاں بنا ہی نہیں پا رہی تھی۔ چنانچہ فورڈ اور اس کے انجینئر نئے سرے سے سوچنے لگے کہ گاڑی بنتی کیسے ہے۔

کھڑی ہوئی گاڑی کے گرد مزدوروں کے گھومنے کے بجائے، وہ کام کو مزدوروں تک لے آئے۔ ہائی لینڈ پارک کے کارخانے میں 1913 کے آخر تک ایک چلتی ہوئی اسمبلی لائن ہر گاڑی کو مزدوروں کی ایک قطار کے سامنے سے گزارتی تھی، اور ہر مزدور ایک ہی کام کرتا تھا۔ ایک ماڈل ٹی بنانے کا وقت ڈرامائی طور پر گھٹ گیا۔

جیسے جیسے بنانا سستا ہوتا گیا، فورڈ بار بار قیمت گھٹاتا گیا۔ جو گاڑی 1908 میں ایک بڑی رقم کی تھی، وہ 1920 کی دہائی تک کہیں کم کی ہو گئی۔ جنوری 1914 میں اس نے یہ اعلان بھی کیا کہ اس کے بہت سے مزدور روزانہ پانچ ڈالر کمائیں گے، جو عام اجرت کا تقریباً دگنا تھا، تاکہ گاڑیاں بنانے والے خود بھی انہیں خرید سکیں۔

1927 میں جب اس کی پیداوار بند ہوئی، تب تک ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ ماڈل ٹی بن چکی تھیں۔ خاندان دوسرے قصبوں میں رشتہ داروں سے ملنے جا سکتے تھے، کسان منڈیوں تک پہنچ سکتے تھے، اور ڈاکٹر مریضوں تک۔ گاڑی اب عیش کی چیز نہیں رہی تھی۔

دوسرا رخ

فورڈ کی بعد کی زندگی اتنی قابلِ تعریف نہیں تھی۔ وہی ضد جس نے اسے کامیاب ہونے میں مدد دی تھی، اسے ایسا آدمی بنا گئی جس کے ساتھ کام کرنا مشکل تھا، اور اس نے اپنے بیٹے ایڈسل کے ساتھ سخت سلوک کیا۔ 1920 کی دہائی میں اس کے ایک اخبار نے یہود دشمن مضامین چھاپے جنہوں نے حقیقی نقصان پہنچایا، اور 1930 کی دہائی میں اس کی کمپنی نے یونین بنانے کی کوشش کرنے والے مزدوروں کے خلاف طاقت استعمال کی۔

اس کی کہانی یاد دلاتی ہے کہ کوئی شخص ایسا کام کر سکتا ہے جو دنیا کو بہتر بنا دے، اور پھر بھی دوسری باتوں میں بری طرح غلط ہو سکتا ہے۔ دونوں باتیں سچ ہیں۔

مزید پڑھنا چاہتے ہیں؟

ڈگلس برنکلی کی Wheels for the World فورڈ اور اس کی کمپنی کی کہانی سناتی ہے۔ اسٹیون واٹس کی The People's Tycoon خود اس شخص کی ایک متوازن سوانح ہے۔ مشی گن کے ڈیئربورن میں دی ہنری فورڈ عجائب گھر میں کواڈری سائیکل اور اس کی زندگی کے بہت سے ریکارڈ محفوظ ہیں۔

Read next

FoundersBiography

Sixty-Five and Starting Over

At an age when most people retire, Harland Sanders lost the roadside restaurant he had spent twenty-five years building. He had a pension cheque, an old car and a recipe for fried chicken. So he started again.

4 min readAges 12+1890s–1980s
FoundersBiography

The Detergent on a Bicycle

A government chemist in Ahmedabad began mixing washing powder in his backyard and selling it door to door from his bicycle, before and after work. He named it after the daughter he had lost.

3 min readAges 11+1960s–2000s
FoundersBiography

From Petrol Pump to Reliance

A schoolteacher's son from a Gujarat fishing village went to work as a clerk in a hot foreign port. He came home with a little money, a rented room and an idea. What he built changed how ordinary Indians thought about owning a share of a company.

4 min readAges 12+1930s–2000s