← Back to stories

For Kids

بادشاہ کے نئے کپڑے

دو دھوکے باز ایک خود پسند بادشاہ کو ایسا کپڑا بیچتے ہیں جو صرف عقل مند لوگوں کو نظر آتا ہے۔ سب دکھاوا کرتے ہیں، یہاں تک کہ ایک بچہ وہ بات کہہ دیتا ہے جو سب کو نظر آ رہی ہے۔

  • 3 منٹ کا مطالعہ
  • Ages 6+
  • Classic retold
  • 1830s
اس زبان میں پڑھیں

بہت برس پہلے ایک بادشاہ تھا جسے دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر نئے کپڑے پسند تھے۔

اسے نہ اپنے سپاہیوں کی پروا تھی، نہ تھیٹر کی، نہ باغ میں گھڑ سواری کی، سوائے اس کے کہ اسے کوئی نیا کوٹ دکھانے کا موقع مل جائے۔ دن کے ہر گھنٹے کے لیے اس کے پاس الگ لباس تھا۔ جہاں دوسرے بادشاہوں کے بارے میں کہا جاتا کہ وہ "دربار میں ہیں"، وہاں اس کے بارے میں لوگ کہتے، "بادشاہ سلامت کپڑے بدلنے کے کمرے میں ہیں۔"

ایک دن شہر میں دو اجنبی آئے۔ وہ خود کو جولاہے کہتے تھے، لیکن اصل میں وہ ٹھگ تھے۔

"ہم ایسا خوب صورت کپڑا بُن سکتے ہیں جیسا کبھی نہیں بنا،" انھوں نے اعلان کیا۔ "اس کے رنگ اور نقش و نگار کمال کے ہیں۔ اور اس میں ایک جادو ہے: وہ ہر اس شخص کو نظر نہیں آتا جو بے وقوف ہو، یا اپنے کام کے لائق نہ ہو۔"

وہ کپڑا جو کسی کو نظر نہیں آتا

بادشاہ خوشی سے جھوم اٹھا۔ اگر میں وہ کپڑا پہنوں، اس نے سوچا، تو مجھے فوراً پتا چل جائے گا کہ میرے کون سے وزیر اپنے کام کے لائق نہیں، اور کون عقل مند ہیں اور کون بے وقوف۔

اس نے دونوں آدمیوں کو ڈھیر سارا سونا دیا، اور انھوں نے دو کرگھے لگا کر کام کرنے کا ڈھونگ شروع کر دیا۔ انھوں نے سب سے عمدہ ریشم اور سب سے خالص سونے کا دھاگا مانگا، جو انھوں نے سیدھا اپنے تھیلوں میں ڈال لیا۔ پھر وہ رات گئے تک اپنے خالی کرگھوں پر بیٹھے رہے۔

کچھ عرصے بعد بادشاہ جاننا چاہتا تھا کہ کپڑا کہاں تک بنا۔ لیکن اسے تھوڑی سی بے چینی ہوئی۔ اگر مجھے نظر نہ آیا تو؟ سو اس نے پہلے اپنے سب سے بوڑھے اور سب سے ایمان دار وزیر کو بھیجا۔

بوڑھا وزیر کرگھوں کے سامنے کھڑا ہو کر گھورتا رہا۔ خدا میری مدد کرے، اس نے سوچا۔ مجھے تو کچھ بھی نظر نہیں آ رہا۔ لیکن اس نے یہ بات کہی نہیں۔

"کیا یہ خوب صورت نہیں؟" ٹھگوں نے کہا۔ "یہ نقش دیکھیے۔ یہ رنگ دیکھیے۔"

"اوہ، یہ تو شان دار ہے،" وزیر نے کہا۔ "میں بادشاہ سلامت کو بتاؤں گا کہ مجھے یہ کتنا پسند آیا۔"

ایک اور افسر بھیجا گیا، اور اس کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ اسے کچھ نظر نہیں آیا، لیکن وہ ڈرتا تھا کہ کہیں اپنے عہدے کے نالائق نہ سمجھا جائے، اس لیے اس نے اس کپڑے کی تعریف کی جس کا حال ٹھگوں نے سنایا تھا۔

جلوس

جلد ہی سارا شہر اس حیرت انگیز کپڑے کی باتیں کرنے لگا۔ آخرکار بادشاہ اپنے سب سے شان دار درباریوں کے ساتھ خود اسے دیکھنے گیا۔

اسے کچھ نظر نہیں آیا۔

کیا میں بے وقوف ہوں؟ اس نے گھبرا کر سوچا۔ کیا میں بادشاہ بننے کے لائق نہیں؟ اونچی آواز میں اس نے کہا، "اوہ، یہ تو بہت پیارا ہے۔ مجھے یہ بے حد پسند ہے۔"

اور اس کے سارے درباریوں نے، جنھیں بھی کچھ نظر نہیں آ رہا تھا، ہاں میں ہاں ملائی۔ "خوب صورت! لاجواب!" انھوں نے مشورہ دیا کہ بادشاہ اس کپڑے سے بنا لباس اس بڑے جلوس میں پہنے جو جلد نکلنے والا تھا۔

ٹھگ ساری رات موم بتیاں جلا کر کام کرتے رہے۔ وہ بڑی بڑی قینچیوں سے ہوا کاٹتے رہے۔ وہ بغیر دھاگے کی سوئیوں سے سلائی کرتے رہے۔ صبح انھوں نے کہا، "بادشاہ سلامت کے نئے کپڑے تیار ہیں۔"

انھوں نے ایک ایک چیز کر کے اسے کپڑے پہنانے کا ڈھونگ کیا۔ "یہ رہا پاجامہ۔ یہ رہا کوٹ۔ یہ رہا لبادہ۔ یہ مکڑی کے جالے جتنے ہلکے ہیں۔ آپ کو تو یوں لگے گا جیسے آپ نے کچھ پہنا ہی نہیں۔"

بادشاہ آئینے کے سامنے ادھر ادھر گھوم کر خود کو دیکھتا رہا، اور پھر وہ ایک شان دار شامیانے کے نیچے گلی میں نکل آیا، جبکہ دو شاہی خادم ایک ایسا دامن اٹھائے ہوئے تھے جو وہاں تھا ہی نہیں۔

گلیوں میں اور کھڑکیوں میں کھڑے سب لوگ پکار اٹھے، "بادشاہ سلامت کے نئے کپڑے کتنے شان دار ہیں!" کوئی نہیں چاہتا تھا کہ لگے اسے کچھ نظر نہیں آ رہا، کیوں کہ اس کا مطلب ہوتا کہ وہ بے وقوف ہے، یا اپنے کام کے لائق نہیں۔

ایک ننھی سی آواز

تب ایک چھوٹے سے بچے نے کہا، "لیکن انھوں نے تو کچھ پہنا ہی نہیں!"

"اس معصوم بچے کی بات سنو،" اس کے ابا نے کہا۔ اور یہ سرگوشی ایک سے دوسرے تک پھیلتی گئی۔ "انھوں نے کچھ نہیں پہنا۔ ایک بچہ کہہ رہا ہے کہ انھوں نے کچھ نہیں پہنا۔"

"بادشاہ نے کچھ نہیں پہنا!" آخرکار سارا مجمع چلا اٹھا۔

بادشاہ کانپ گیا، کیوں کہ اسے شک تھا کہ لوگ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ لیکن اس نے سوچا، جلوس تو چلتا رہنا چاہیے۔ سو وہ پہلے سے بھی زیادہ اکڑ کر چلنے لگا، اور خادم وہ دامن اٹھائے چلتے رہے جو وہاں سرے سے تھا ہی نہیں۔

اس کہانی کے بارے میں

ڈنمارک کے ادیب ہینس کرسچن اینڈرسن نے یہ کہانی 1837 میں شائع کی۔ یہ ایک پرانی ہسپانوی کہانی پر مبنی تھی، لیکن سچ بولنے والے بچے کو اینڈرسن نے شامل کیا۔ آج "بادشاہ کے نئے کپڑے" بہت سی زبانوں میں ایک محاورہ ہے، ایسی بات کے لیے جس پر یقین کرنے کا سب دکھاوا کرتے ہیں۔ یہ اس کہانی کی ایک بازگوئی ہے۔

Read next

For KidsFable & folk tale

The Blue Jackal

A hungry jackal falls into a tub of blue dye and comes out a colour no animal has ever seen. The whole forest bows to him. But can he keep his secret?

3 min readAges 5–9Ancient India
For KidsFable & folk tale

The Fox and the Grapes

A hungry fox spots a bunch of shining purple grapes, high up on a vine. He jumps and jumps. Then he says something very interesting.

3 min readAges 4–8Ancient Greece
For KidsClassic retold

The Princess and the Pea

On a stormy night, a dripping-wet girl knocks at the palace gate and says she is a real princess. The queen has a clever, rather strange way to find out.

2 min readAges 4–819th-century Denmark