← Back to stories

Founders

ہندوستان کا دودھ والا

ورگیز کورین کو ان کی مرضی کے خلاف گجرات کے ایک چھوٹے سے قصبے بھیجا گیا، اور ان کا ارادہ تھا کہ جتنی جلدی ہو سکے وہاں سے نکل جائیں گے۔ وہ عمر بھر وہیں رہے، اور لاکھوں دیہاتی کسانوں کی مدد کی کہ وہ اپنے دودھ کو روزی کا ذریعہ بنا سکیں۔

  • 4 منٹ کا مطالعہ
  • Ages 11+
  • Biography
  • 1940s–2010s
اس زبان میں پڑھیں

ہر صبح اور ہر شام گجرات میں آنند کے آس پاس کے گاؤوں میں ایک چھوٹے سے کلیکشن سینٹر کے باہر لوگوں کی قطار لگ جاتی۔ رنگ برنگی ساڑیوں میں عورتیں، بوڑھے مرد، ماں باپ کے بھیجے ہوئے بچے: ہر ایک کے ہاتھ میں دودھ کا ایک برتن یا ڈبہ ہوتا۔

ہر شخص کا دودھ ناپا اور جانچا جاتا۔ ہر ایک کو جو کچھ وہ لایا تھا اس کی منصفانہ قیمت ملتی، اکثر اسی دن۔ ان میں سے بہت سے خاندانوں کے لیے یہ پہلا موقع تھا کہ انہیں کسی بھی چیز کی منصفانہ قیمت ملی ہو۔

جس آدمی نے یہ ممکن بنانے میں مدد دی، وہ خود ہنستے ہوئے مانتے تھے کہ انہیں دودھ پینا پسند تک نہیں تھا۔

وہ انجینئر جو آنا نہیں چاہتا تھا

ورگیز کورین 26 نومبر 1921 کو کیرالہ کے کالی کٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سول سرجن تھے۔ انہوں نے مدراس میں پہلے فزکس اور پھر انجینئرنگ پڑھی، اور وہ اچھے طالب علم بھی تھے اور کھیلوں کے شوقین بھی۔

ہندوستان کی آزادی کے بعد انہیں امریکہ میں پڑھنے کے لیے ایک سرکاری وظیفہ ملا۔ حکومت چاہتی تھی کہ وہ ڈیری انجینئرنگ پڑھیں۔ انہیں دھاتوں اور مشینوں میں کہیں زیادہ دلچسپی تھی، اور انہوں نے انہی پر توجہ دی۔ مگر وظیفے کے ساتھ ایک شرط تھی: واپس آ کر انہیں ایک مقررہ مدت تک حکومت کے لیے کام کرنا تھا۔

1949 میں ان کی تقرری گجرات کے ضلع کیرا کے ایک گرد آلود چھوٹے سے قصبے آنند میں ایک سرکاری کریمری میں ہوئی۔ وہ پہنچنے کے دن ہی سے ناخوش تھے۔ وہ دن گنتے رہتے کہ کب یہاں سے جا سکیں گے۔

کیرا کے کسان

کیرا میں دودھ کا کاروبار ایک نجی ڈیری کمپنی اور بچولیوں کے ہاتھ میں تھا۔ کسانوں کے پاس، جن میں سے بہت سے غریب تھے اور جن کے پاس بس ایک دو بھینسیں تھیں، جو قیمت ملے اسی پر بیچنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

1946 میں آزادی کے رہنما سردار ولبھ بھائی پٹیل کی حوصلہ افزائی پر کسانوں نے ہڑتال کر دی تھی اور اپنی ایک کوآپریٹو بنا لی تھی: کیرا ڈسٹرکٹ کوآپریٹو ملک پروڈیوسرز یونین۔ اس کے رہنما تری بھون داس پٹیل تھے، ایک خاموش طبع، ایماندار مقامی آدمی۔

نئی کوآپریٹو مشکل میں تھی۔ اس کا سامان بار بار خراب ہو جاتا تھا۔ کورین، جو سرکاری کریمری میں اکتائے ہوئے تھے، ان کی مشینیں ٹھیک کرنے میں مدد کرنے لگے۔

تری بھون داس کو ان میں کچھ خاص نظر آیا۔ جب کورین کا سرکاری معاہدہ ختم ہوا اور وہ جانے کے لیے آزاد ہو گئے، تو تری بھون داس نے ان سے کہا کہ تھوڑا عرصہ اور رک جائیں اور ایک باقاعدہ ڈیری بنانے میں ان کی مدد کریں۔

کورین مان گئے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ تھوڑے ہی عرصے کی بات ہے۔

بھینس کے دودھ سے دودھ کا پاؤڈر

کوآپریٹو کے سامنے ایک بڑا مسئلہ تھا۔ سردیوں میں بھینسیں خوب دودھ دیتیں، اتنا کہ شہر خرید ہی نہ پاتا۔ گرمیوں میں دودھ بہت کم ہوتا۔ فالتو دودھ کو محفوظ کرنے کا کوئی طریقہ نہ ہونے کی وجہ سے کسانوں کا نقصان ہوتا تھا۔

حل یہ تھا کہ فالتو دودھ کو دودھ کے پاؤڈر اور مکھن میں بدل دیا جائے۔ مگر ماہرین کہتے تھے کہ بھینس کے دودھ سے پاؤڈر نہیں بن سکتا؛ یہ ہمیشہ گائے کے دودھ سے بنتا آیا ہے۔

کورین اور ان کے دوست اور ساتھی ایچ ایم دلایا نے، جو ایک باکمال ڈیری انجینئر تھے، یہ بات نہیں مانی۔ دلایا نے اس کا طریقہ ڈھونڈ نکالا۔ کوآپریٹو کی نئی ڈیری بھینس کے دودھ سے پاؤڈر اور مکھن بنانے لگی، اور یہ چیزیں ایک نئے نام سے بکنے لگیں: امول، جو آنند ملک یونین لمیٹڈ کا مخفف تھا، اور جس میں سنسکرت لفظ امولیہ کی گونج بھی تھی، جس کا مطلب ہے انمول۔

آنند کا نمونہ

آنند کو جو چیز خاص بناتی تھی وہ مشینیں نہیں تھیں۔ وہ ان کے پیچھے کا خیال تھا۔

ڈیری کسانوں کی ملکیت تھی۔ ہر گاؤں کی اپنی سوسائٹی تھی، جسے گاؤں والے خود چلاتے تھے، اور جہاں ایک بھینس والا بھی دودھ بیچ سکتا تھا۔ گاؤں کی سوسائٹیاں ضلعی یونین کی مالک تھیں، اور یونین ڈیری کی مالک تھی۔ منافع کسانوں کو واپس جاتا تھا۔

1964 میں وزیرِ اعظم لال بہادر شاستری آنند آئے۔ انہوں نے ایک گاؤں میں رات گزاری اور کسانوں سے باتیں کیں، اور اتنے متاثر ہوئے کہ کورین سے کہا کہ وہ پورے ملک میں آنند کے نمونے کو دہرانے میں مدد کریں۔

چنانچہ آنند میں نیشنل ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ قائم ہوا، اور کورین اس کے سربراہ بنے۔ 1970 میں اس نے آپریشن فلڈ نام کا ایک بہت بڑا پروگرام شروع کیا، جس نے ہندوستان بھر کے ہزاروں گاؤوں میں ڈیری کسانوں کو کوآپریٹوز میں منظم ہونے میں مدد دی۔

وہ آدمی جو رک گیا

کورین کسی بڑے شہر میں یا بیرونِ ملک آرام دہ کیریئر بنا سکتے تھے۔ وہ اپنی بیوی مولی اور اپنی بیٹی نرملا کے ساتھ عمر بھر آنند ہی میں رہے۔ وہ ضدی اور منہ پھٹ تھے، اور اکثر افسروں اور سیاست دانوں سے ٹکرا جاتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ کسانوں کو اپنے کام پر خود اختیار ہونا چاہیے، اور وہ اس کے لیے ڈٹ کر لڑے۔

1990 کی دہائی کے آخر تک ہندوستان دنیا میں دودھ پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک بن چکا تھا۔ لاکھوں کسان خاندانوں کو، جن میں روزمرہ کا زیادہ تر کام عورتیں کرتی تھیں، ایسی مستقل آمدنی ملنے لگی جو انہیں پہلے کبھی نہیں ملی تھی۔

ورگیز کورین کا انتقال 9 ستمبر 2012 کو نوے برس کی عمر میں ہوا۔ پورے ہندوستان میں انہیں سفید انقلاب کے باپ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، اور ان کی سالگرہ قومی یومِ دودھ کے طور پر منائی جاتی ہے۔

مزید پڑھنا چاہتے ہیں؟

ڈاکٹر کورین کی یادداشتیں I Too Had a Dream، جو انہوں نے گوری سالوی کو سنائیں، آنند میں ان کی زندگی کا ایک بے باک اور اکثر مزیدار بیان ہیں۔ نیشنل ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ کی ویب سائٹ پر آپریشن فلڈ اور کوآپریٹو نمونے کی تفصیل موجود ہے۔

Read next

FoundersBiography

Seven Friends and Ten Thousand Rupees

In 1981, seven young engineers in Pune started a software company with ten thousand rupees, borrowed from one founder's wife. For years they had no money, few clients and endless government paperwork. This is how Infosys began.

4 min readAges 12+1980s–1990s
FoundersBiography

The Man Who Built a Nation of Steel

Jamsetji Tata dreamed of steel mills, power stations and a great institute of science for a country that was not yet free. He did not live to see most of them built. This is the story of how he planted them anyway.

4 min readAges 12+1830s–1900s
FoundersBiography

From Petrol Pump to Reliance

A schoolteacher's son from a Gujarat fishing village went to work as a clerk in a hot foreign port. He came home with a little money, a rented room and an idea. What he built changed how ordinary Indians thought about owning a share of a company.

4 min readAges 12+1930s–2000s