← Back to stories

True Stories

دریا پر اترنا

جنوری 2009 میں ایک مسافر جیٹ طیارے کے دونوں انجن نیویارک سے اڑان بھرنے کے چند منٹ بعد بند ہو گئے۔ پائلٹوں کے پاس یہ فیصلہ کرنے کے لیے تقریباً ساڑھے تین منٹ تھے کہ کیا کریں۔

  • 3 منٹ کا مطالعہ
  • Ages 10+
  • True story
  • 2000s
اس زبان میں پڑھیں

15 جنوری 2009 کی سہ پہر یو ایس ایئرویز کی فلائٹ 1549 نے نیویارک کے لاگارڈیا ہوائی اڈے سے شارلٹ، نارتھ کیرولائنا کے لیے اڑان بھری۔

سردیوں کا ایک ٹھنڈا، صاف دن تھا۔ جہاز میں 150 مسافر اور عملے کے 5 ارکان سوار تھے۔ کاک پٹ میں کیپٹن چیسلی سلنبرگر تھے، جنھیں سب سلی کہتے تھے اور جو چالیس برس سے زیادہ عرصے سے جہاز اڑا رہے تھے، اور ان کے ساتھ فرسٹ آفیسر جیفری اسکائلز۔

پرندے

اڑان کے تقریباً دو منٹ بعد، جب جہاز لگ بھگ 2,800 فٹ کی بلندی سے اوپر چڑھ رہا تھا، وہ بڑے بڑے کینیڈائی ہنسوں کے ایک جھنڈ سے جا ٹکرایا۔

مسافروں نے زور دار دھمک کی آوازیں سنیں۔ کچھ نے انجنوں سے شعلے نکلتے دیکھے۔ دونوں انجنوں کی تقریباً ساری طاقت ختم ہو گئی۔

اب وہ جہاز ایک گلائیڈر تھا، 70 ٹن کا ایک گلائیڈر، دنیا کے سب سے گنجان آباد شہروں میں سے ایک کے اوپر۔

فیصلے کے لیے چند سیکنڈ

کیپٹن سلنبرگر نے کنٹرول سنبھال لیے۔ فرسٹ آفیسر اسکائلز ایمرجنسی چیک لسٹ پر کام کرنے لگے اور انجنوں کو دوبارہ چالو کرنے کی کوشش کرتے رہے۔

سلنبرگر نے ریڈیو پر ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ کیا۔ کنٹرولر پیٹرک ہارٹن نے انھیں واپس لاگارڈیا کا ایک رن وے پیش کیا، اور پھر ایک اور راستہ، نیو جرسی کا ٹیٹربورو ہوائی اڈا۔

کیپٹن نے فوراً اندازہ لگا لیا کہ وہ ان میں سے کسی تک نہیں پہنچ سکتے۔ اگر وہ کوشش کرتے اور راستے میں ہی نیچے آ جاتے، تو جہاز نیویارک کی سڑکوں اور عمارتوں پر جا گرتا۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق انھوں نے کنٹرولر سے کہا: "ہم ہڈسن میں اتریں گے۔"

دریائے ہڈسن مین ہیٹن کے مغربی کنارے کے ساتھ بہتا ہے۔ وہ چوڑا اور لمبا ہے، اور اس حصے میں میلوں تک اس پر کوئی پل نہیں۔ یہی وہ واحد کھلی، ہموار جگہ تھی جہاں تک وہ پہنچ سکتے تھے۔

ٹکر کے لیے تیار ہو جائیں

کسی بڑے جیٹ طیارے کو پانی پر اتارنا، جسے ڈچنگ کہتے ہیں، انتہائی خطرناک ہوتا ہے۔ اگر ایک بازو پہلے پانی کو چھو لے، یا ناک بہت تیزی سے نیچے آئے، تو جہاز ٹوٹ کر بکھر سکتا ہے۔

کیبن کے اسپیکروں پر کیپٹن نے جہاز میں سوار سب لوگوں کو ایک مختصر سی ہدایت دی: "میں کیپٹن بول رہا ہوں۔ ٹکر کے لیے تیار ہو جائیں۔"

کیبن میں تینوں فلائٹ اٹینڈنٹ، شیلا ڈیل، ڈورین ویلش اور ڈونا ڈینٹ، ایک آواز ہو کر بار بار اپنی ہدایات چلانے لگیں: تیار ہو جائیں، تیار ہو جائیں، سر نیچے، نیچے ہی رہیں۔

سلنبرگر جہاز کو دریا کے اوپر نیچے لائے، بازوؤں کو برابر اور ناک کو ذرا اوپر رکھتے ہوئے۔ سہ پہر تقریباً 3:31 بجے، پرندوں کے ٹکرانے کے لگ بھگ ساڑھے تین منٹ بعد، فلائٹ 1549 دریائے ہڈسن کی سطح پر اتر گئی۔

جہاز ٹوٹا نہیں، سالم رہا۔

بازوؤں پر

کیبن کے پچھلے حصے میں پانی بھرنے لگا۔ فلائٹ اٹینڈنٹس نے ہنگامی دروازے کھولے اور مسافروں کو باہر نکالا۔ لوگ جہاز کے بازوؤں پر چڑھ گئے اور ہوا سے پھولنے والی سلائیڈوں پر بیٹھ گئے، جو کشتیوں کا کام دینے لگیں۔ پانی تقریباً جما دینے والا ٹھنڈا تھا، اور ہوا کا درجۂ حرارت صفر سے کافی نیچے تھا۔

چند ہی منٹ میں کشتیاں پہنچ گئیں۔ سب سے پہلے مسافروں کو روزانہ لانے لے جانے والی ایک فیری آئی، اور اس کے بعد اور فیریاں بھی آئیں، ساتھ ہی پولیس اور فائر بریگیڈ کی کشتیاں بھی۔ ان کے عملے نے لوگوں کو پانی سے اور بازوؤں پر سے کھینچ کر نکالا۔ کچھ مسافر گھٹنوں تک پانی میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے بازوؤں پر کھڑے تھے۔

نکلنے سے پہلے کیپٹن سلنبرگر ڈوبتے ہوئے کیبن میں دو بار پورا چکر لگا کر آئے، تاکہ یقین کر لیں کہ کوئی پیچھے نہیں رہ گیا۔

جہاز پر سوار تمام 155 لوگ زندہ بچ گئے۔ کچھ لوگ شدید زخمی ہوئے، جن میں ایک فلائٹ اٹینڈنٹ بھی تھیں جن کی ٹانگ پر گہرا زخم آیا، لیکن کسی کی جان نہیں گئی۔

اس کے بعد

اخباروں نے اسے "ہڈسن کا معجزہ" کہا۔ سلنبرگر کو ہیرو کے طور پر سراہا گیا، لیکن وہ ہمیشہ یہی کہتے رہے کہ یہ پورے عملے، کنٹرولرز اور بچانے والوں کا کام تھا، اور برسوں کی تربیت کا نتیجہ۔

نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ نے، جیسا کہ وہ ہر حادثے کے بعد کرتا ہے، بڑی احتیاط سے تحقیقات کیں۔ اس کی رپورٹ کا نتیجہ یہ تھا کہ کیپٹن کے دریا پر اترنے کے فیصلے نے مسافروں کو بچنے کا بہترین موقع دیا، اور کاک پٹ، کیبن اور پانی پر سب کا مل کر کام کرنا فیصلہ کن ثابت ہوا۔

بعد میں خود جہاز کو دریا سے نکال لیا گیا، اور اب وہ شارلٹ، نارتھ کیرولائنا کے ایک عجائب گھر میں رکھا ہے، اسی شہر میں جہاں وہ کبھی پہنچ نہ سکا تھا۔

مزید پڑھنا چاہتے ہیں؟

این ٹی ایس بی کی سرکاری رپورٹ، جو آن لائن مفت دستیاب ہے، پرواز کا منٹ بہ منٹ احوال بیان کرتی ہے۔ کیپٹن سلنبرگر کی یادداشتیں Highest Duty کاک پٹ سے یہ کہانی سناتی ہیں اور اس طویل کیریئر کا ذکر کرتی ہیں جس نے انھیں ان چند منٹوں کے لیے تیار کیا تھا۔

Read next

True StoriesTrue story

The Race to Nome

In the winter of 1925, a deadly illness broke out in a small town in Alaska, cut off by snow and ice. The medicine that could stop it was nearly a thousand kilometres away. Only dogs could bring it.

4 min readAges 8+1920s
True StoriesTrue story

Trapped in the Ice

In 1915, Ernest Shackleton's ship Endurance was crushed by Antarctic ice. Twenty-eight men were stranded at the bottom of the world. Every one of them came home.

4 min readAges 10+1910s
True StoriesTrue story

Thirteen in the Cave

In June 2018, twelve boys from a Thai football team and their coach were trapped by floodwater deep inside a cave. The world came together to bring them out.

3 min readAges 10+2010s