یتیموں کی ماں
بیس برس کی عمر میں ایک نوزائیدہ بچی کے ساتھ گھر سے نکال دی جانے والی سندھو تائی سپکال ریلوے اسٹیشنوں پر کھانے کے بدلے گا کر زندہ رہیں۔ پھر انھوں نے دوسروں کے ٹھکرائے ہوئے بچوں کو اپنانا شروع کر دیا۔
- 4 منٹ کا مطالعہ
- Ages 12+
- Biography
- 1940s–2020s
توجہ فرمائیں: اس کہانی میں گھریلو تشدد، شدید غربت اور خودکشی کے خیالات کا ذکر ہے۔
ٹرین اسٹیشن پر آ کر رکی، اور گود میں بچی لیے ایک نوجوان عورت گانے لگی۔
وہ مراٹھی میں بھجن اور لوک گیت گا رہی تھی، ایک مضبوط اور صاف آواز میں۔ مسافر کھڑکیوں سے جھانکنے لگے۔ کسی نے اس کی طرف سکہ اچھال دیا، کسی نے روٹی کا ٹکڑا۔ جب ٹرین چلی گئی تو وہ پلیٹ فارم پر بیٹھ گئی اور روٹی اپنی بیٹی کے ساتھ بانٹ کر کھائی۔
اس کا نام سندھو تائی تھا۔ اس کے پاس نہ گھر تھا، نہ پیسہ، نہ کوئی رشتے دار جو اسے پناہ دیتا۔ اور چند ہی برسوں میں وہ ایک ہزار سے زیادہ بچوں کی ماں بننے والی تھی۔
چندی نام کی لڑکی
وہ 1948 میں مہاراشٹر کے ضلع وردھا کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں مویشی چرانے والے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ خود ان کے بیان کے مطابق، گھر والے انھیں چندی کہتے تھے، جس کا مطلب ہے پھٹے ہوئے کپڑے کی ایک دھجی۔ اس زمانے میں بہت سے لوگ سمجھتے تھے کہ لڑکی کی کوئی خاص قدر نہیں۔
ان کے والد چاہتے تھے کہ وہ پڑھیں، اور جب موقع ملتا وہ اسکول جاتیں۔ لیکن ان کی شادی بہت کم عمری میں، جب وہ ابھی بچی ہی تھیں، اپنے سے کئی برس بڑے ایک آدمی سے کر دی گئی۔ چوتھی جماعت کے بعد انھیں اسکول چھوڑنا پڑا۔ وہ اپنے شوہر کے گاؤں رہنے چلی گئیں اور گھر اور کھیتوں میں سخت محنت کرتی رہیں۔
کم عمر بیوی ہوتے ہوئے بھی وہ آواز اٹھاتی تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ گاؤں کے ان مقامی آدمیوں کے خلاف ایک احتجاج میں شامل ہوئیں جو گوبر جمع کرنے والی دیہاتی عورتوں کی مزدوری ہڑپ کر رہے تھے۔ ان کی اس بے باکی کی وجہ سے ان کے کئی طاقت ور دشمن بن گئے۔
مویشیوں کا باڑا
جب وہ تقریباً بیس برس کی تھیں اور اپنے چوتھے بچے کی ماں بننے والی تھیں، ان کے شوہر نے انھیں مارا پیٹا اور گھر سے نکال دیا۔ ان کے اپنے بیان کے مطابق، اسی رات انھوں نے مویشیوں کے ایک باڑے میں اکیلے ایک بیٹی کو جنم دیا۔
وہ پناہ کی امید میں پیدل اپنی ماں کے گھر گئیں۔ ماں نے انھیں لوٹا دیا۔
اب کہیں جانے کو کوئی ٹھکانا نہ رہا، تو سندھو تائی اور ان کی بچی جہاں جگہ ملتی، وہیں رہنے لگیں۔ وہ ٹرینوں میں اور ریلوے اسٹیشنوں پر بھیک مانگتیں اور گاتیں۔ رات کو کبھی کبھی وہ شمشان گھاٹ میں سو جاتیں، کیوں کہ وہاں کوئی اور جانا نہیں چاہتا تھا، اور اس لیے وہاں کوئی انھیں نقصان نہیں پہنچاتا۔
بعد میں انھوں نے بتایا کہ کئی بار وہ اتنی ناامید ہو جاتیں کہ اپنی زندگی ختم کر لینے کا سوچتیں۔ لیکن اپنی بیٹی کی خاطر وہ جیتی رہیں۔
اسٹیشن کے بچے
پلیٹ فارموں پر رہتے ہوئے سندھو تائی نے ایک بات محسوس کی۔ بے ٹھکانا وہ اکیلی نہیں تھیں۔ وہاں بچے بھی تھے، یتیم یا چھوڑ دیے گئے، جو بینچوں کے نیچے سوتے اور بچے کھچے ٹکڑوں کے لیے ہاتھ پھیلاتے تھے۔
ان کے پاس جو تھوڑا بہت ہوتا، وہ ان بچوں کے ساتھ بانٹنے لگیں۔ پھر وہ ان کی دیکھ بھال کرنے لگیں۔ کوئی بھوکا بچہ آتا تو وہ اسے کھلاتیں۔ کوئی روتی بچی آتی تو وہ اسے گلے لگا لیتیں۔
جلد ہی ان کے گرد بہت سے بچے جمع ہو گئے، اور وہ ان سب کے لیے گاتیں اور مانگتیں۔
پھر انھوں نے ایک ایسا فیصلہ کیا جسے بہت سے لوگوں کے لیے سمجھنا مشکل تھا۔ انھوں نے اپنی بیٹی ممتا کو پرورش کے لیے پونے کے ایک ٹرسٹ میں بھیج دیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ کسی ایک بچے کو دوسروں سے زیادہ پیار نہیں کرنا چاہتیں، اور یہ کہ ہر بے سہارا بچے کو محسوس ہونا چاہیے کہ وہ ان کا اپنا ہے۔
مائی
دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر اس گانے والی عورت پر پڑنے لگی جس کے ساتھ اتنے سارے بچے تھے۔ وہ جلسوں میں بولنے لگیں، اپنی کہانی سناتیں اور مدد مانگتیں۔ وہ بہت اثر انگیز مقرر تھیں، کھری، دلچسپ اور بے خوف، اور اکثر سننے والوں کی آنکھیں بھر آتیں۔ لوگ کھانا، کپڑے اور پیسے دیتے۔
انھی تحفوں سے انھوں نے مہاراشٹر میں یتیم بچوں کے لیے گھر قائم کیے۔ بچے انھیں مائی کہتے تھے، جس کا مطلب ہے ماں۔ انھوں نے ان بچوں کو پالا، اسکول اور کالج بھیجا، اور ان کی شادیاں کروائیں۔ ان میں سے بہت سے بڑے ہو کر استاد، ڈاکٹر اور وکیل بنے۔ کچھ واپس آ کر ان کے ساتھ ان گھروں کو چلانے لگے۔
برسوں میں یہ خاندان بڑھ کر ایک ہزار سے زیادہ بچوں تک پہنچ گیا۔ بڑے ہو جانے والے بچے اپنے بچوں کو ان سے ملوانے لاتے، اور وہ انھیں بھی گنتی میں شامل کر لیتیں۔ انھوں نے میلگھاٹ کے جنگلاتی علاقے کی قبائلی برادریوں کے لیے بھی کام کیا اور ان کے حقوق کے لیے مہم چلائی۔
معافی
کئی برس بعد، جب ان کا شوہر بوڑھا اور اکیلا رہ گیا، تو وہ ان کے پاس لوٹ آیا۔ انھوں نے اسے رکھ لیا۔ لیکن، انھوں نے کہا، انھوں نے اسے شوہر کے طور پر نہیں بلکہ اپنے ایک اور بچے کے طور پر قبول کیا۔
وہ اکثر کہتی تھیں کہ ان کی تکلیفوں نے انھیں دوسروں کا درد سمجھنا سکھایا، اور اگر ان کی زندگی آسان ہوتی تو انھیں اپنا یہ کام کبھی نہ ملتا۔
انھیں بے شمار اعزازات ملے۔ 2010 میں ان کی زندگی پر ایک مراٹھی فلم بنی، جس کا نام تھا Mee Sindhutai Sapkal۔ 2021 میں حکومتِ ہند نے انھیں پدم شری سے نوازا۔
جنوری 2022 میں پونے میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کے قائم کیے ہوئے گھر ان کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
مزید پڑھنا چاہتے ہیں؟
مراٹھی فلم Mee Sindhutai Sapkal (2010) ان کی زندگی کی کہانی سناتی ہے، اور ان کے بہت سے ریکارڈ شدہ انٹرویو اور تقریریں آن لائن مل جاتی ہیں۔ جنوری 2022 میں ان کے انتقال پر ہندوستانی اخبارات نے ان پر تفصیلی تعزیتی مضامین شائع کیے، اور پدم ایوارڈز کی ویب سائٹ پر ان کے 2021 کے اعزاز کا ریکارڈ موجود ہے۔