وہ نل جسے وہ چھو نہیں سکتا تھا
اسکول کے دنوں میں بھیم راؤ امبیڈکر کو پانی کا نل چھونے کی اجازت نہیں تھی۔ بڑے ہو کر انہوں نے ہندوستان کا آئین لکھنے کی قیادت کی، جس نے ہر شہری سے برابری کا وعدہ کیا۔
- 4 منٹ کی کہانی
- Ages 10+
- Biography
- 1890s–1950s
توجہ فرمائیں: اس کہانی میں ایک بچے کے ساتھ ذات پات کی بنیاد پر ہونے والے امتیاز کا ذکر ہے۔
دن گرم تھا، اور لڑکے کو پیاس لگی تھی۔
مغربی ہندوستان کے شہر ستارا میں اس کے اسکول کے باقی بچے بس پانی کے نل تک جاتے، اسے کھولتے اور پانی پی لیتے۔ وہ ایسا نہیں کر سکتا تھا۔ اسے نل چھونے کی اجازت نہیں تھی۔ اگر اسے پانی چاہیے ہوتا تو اسے اسکول کے چپراسی کا انتظار کرنا پڑتا کہ وہ آ کر نل کھولے اور اس کی جڑی ہوئی ہتھیلیوں میں پانی ڈالے۔
اگر چپراسی مصروف ہوتا یا کہیں گیا ہوتا، تو لڑکا پیاسا ہی رہ جاتا۔ برسوں بعد انہوں نے یہ بات چار سیدھے سادے لفظوں میں کہی: "No peon, no water"، یعنی "چپراسی نہیں، تو پانی نہیں۔"
"اچھوت" کی حیثیت سے پیدائش
بھیم راؤ رام جی امبیڈکر 14 اپریل 1891 کو مہو میں پیدا ہوئے، جو آج مدھیہ پردیش میں ہے۔ وہ برطانوی ہندوستانی فوج میں کام کرنے والے رام جی سکپال اور ان کی بیوی بھیما بائی کی چودھویں اولاد تھے۔
خاندان مہار برادری سے تھا۔ اس زمانے کے ذات پات کے نظام میں مہاروں کے ساتھ "اچھوتوں" جیسا سلوک ہوتا تھا۔ نام نہاد اونچی ذاتوں کے لوگ سمجھتے تھے کہ ان کا لمس، بلکہ ان کا سایہ تک، انہیں ناپاک کر سکتا ہے۔
اسکول میں بھیم راؤ کو باقی بچوں سے الگ، ٹاٹ کے ایک ٹکڑے پر بیٹھنا پڑتا تھا جو وہ گھر سے لاتے تھے۔ کچھ استاد ان کی کاپیاں چھوتے تک نہیں تھے۔ وہ سب کے لیے رکھا پانی نہیں پی سکتے تھے۔ جب وہ چھوٹے تھے، ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا، اور والد نے ایک پھوپھی کی مدد سے بچوں کو پالا۔
ان کے والد تعلیم پر پورے جوش سے یقین رکھتے تھے، اور بھیم راؤ کو جو کچھ ملتا، وہ پڑھ ڈالتے۔
کتابیں، اور ایک لمبا سفر
خاندان بمبئی، آج کے ممبئی، آ گیا، جہاں بھیم راؤ نے ایلفنسٹن ہائی اسکول میں تعلیم پائی۔ ان کی برادری کے بہت کم لڑکوں نے کبھی اسکول مکمل کیا تھا۔ 1907 میں جب انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا تو ان کی برادری نے جشن منایا، اور ایک استاد نے انہیں تحفے میں بدھ کی ایک سوانح عمری دی۔
1912 میں انہوں نے ایلفنسٹن کالج سے ڈگری حاصل کی۔ پھر بڑودہ کے مہاراجا، سیاجی راؤ گائیکواڑ، نے انہیں بیرونِ ملک تعلیم کے لیے وظیفہ دیا۔
1913 میں وہ بحری جہاز سے نیویارک کی کولمبیا یونیورسٹی پہنچے۔ زندگی میں پہلی بار وہ جہاں چاہیں بیٹھ سکتے تھے، دوسروں کے ساتھ کھا سکتے تھے اور کسی بھی نل سے پانی پی سکتے تھے۔ انہوں نے معاشیات، تاریخ، سیاست اور فلسفہ پڑھا، کبھی کبھی دن میں اٹھارہ گھنٹے تک۔ بعد میں انہوں نے لندن اسکول آف اکنامکس میں تعلیم حاصل کی اور لندن میں بیرسٹر کی تربیت لی۔ وہ اپنے زمانے کے سب سے زیادہ تعلیم یافتہ ہندوستانیوں میں سے ایک بنے، جن کے پاس کولمبیا اور لندن دونوں سے ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں تھیں۔
گھر واپسی
ہندوستان لوٹنے پر ان کی ساری ڈگریاں بھی انہیں بچا نہ سکیں۔ بڑودہ میں، جہاں وہ ریاست کے لیے کام کرنے گئے تھے، کوئی بھی مالکِ مکان ان کی ذات کے آدمی کو کمرہ کرائے پر دینے کو تیار نہیں تھا۔ وہ جھوٹے نام سے ایک سرائے میں ٹھہرے، یہاں تک کہ سچ کھل گیا اور انہیں نکال دیا گیا۔ بعد میں انہوں نے لکھا کہ اس دن وہ ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر روئے۔
انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی زندگی اس ناانصافی سے لڑنے میں لگائیں گے جسے وہ بچپن سے جھیلتے آئے تھے۔
وہ وکیل، استاد اور ادیب بنے۔ انہوں نے ان لوگوں کے حقوق کے لیے اخبار اور تنظیمیں شروع کیں جنہیں وہ "پسے ہوئے طبقے" کہتے تھے۔ 1927 میں، مہاراشٹر کے مہاڑ میں، وہ ہزاروں لوگوں کو لے کر چودار تالاب پہنچے، ایک عوامی تالاب جسے استعمال کرنے سے انہیں روکا گیا تھا، اور سب نے مل کر اس سے پانی پیا۔
جو لڑکا نل نہیں چھو سکتا تھا، وہ ایک پوری برادری کو پانی تک لے گیا تھا۔
آئین کی تحریر
1947 میں جب ہندوستان آزاد ہوا تو امبیڈکر کو ملک کا پہلا وزیرِ قانون بننے کی دعوت ملی۔ انہیں اس کمیٹی کا چیئرمین بھی چنا گیا جو ہندوستان کا آئین، ملک کا سب سے بڑا قانون، تیار کرنے والی تھی۔
دو سال سے بھی زیادہ عرصے تک انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے ہر دفعہ پر کام کیا، اور آئین ساز اسمبلی میں اٹھنے والے ہر سوال کا جواب دیا۔ آئین 26 نومبر 1949 کو منظور ہوا، اور 26 جنوری 1950 کو نافذ ہوا، جس دن کو ہندوستان یومِ جمہوریہ کے طور پر مناتا ہے۔
اس نے ہر شہری سے قانون کی نظر میں برابری کا وعدہ کیا۔ اس نے چھوت چھات کو ختم کیا اور اس پر عمل کو جرم قرار دیا۔ اس نے ہر بالغ کو، امیر ہو یا غریب، مرد ہو یا عورت، کسی بھی ذات یا مذہب کا، برابر کا ووٹ دیا۔
آخری برس
امبیڈکر جانتے تھے کہ کاغذ پر لکھا قانون صرف ایک آغاز ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سماجی اور معاشی زندگی میں برابری نہ ہو تو سیاسی برابری کا زیادہ مطلب نہیں رہے گا۔
1956 میں، ناگپور میں، انہوں نے اپنے پیروکاروں کے ایک بہت بڑے مجمع کے ساتھ بدھ مت اختیار کیا۔ انہوں نے ایک ایسا مذہب چنا جو ان کے نزدیک برابری اور ہمدردی کی علامت تھا۔ چند ہی ہفتوں بعد، 6 دسمبر 1956 کو، دہلی میں ان کا انتقال ہو گیا۔
1990 میں انہیں بھارت رتن سے نوازا گیا۔ آج پورے ہندوستان کے شہروں اور گاؤں میں ان کے مجسمے کھڑے ہیں، اور اکثر ان کے ہاتھ میں ایک کتاب ہوتی ہے: آئین۔
مزید پڑھنا چاہتے ہیں؟
ڈاکٹر امبیڈکر کی مختصر خودنوشت یادداشتوں، Waiting for a Visa، میں نل، بڑودہ کی سرائے اور دوسرے تجربات انہی کے الفاظ میں درج ہیں۔ دھننجے کیر کی Dr. Ambedkar: Life and Mission ان کی کلاسیکی سوانح عمری ہے، اور ششی تھرور کی Ambedkar: A Life ایک مختصر، جدید سوانح ہے۔