بدصورت بطخ کا بچہ
ماں بطخ کے گھونسلے میں ایک انڈا باقیوں سے بڑا ہے، اور اس سے نکلنے والا بچہ اپنے بہن بھائیوں جیسا بالکل نہیں لگتا۔ اسے کوئی نہیں چاہتا۔ ابھی نہیں۔
- 4 منٹ کا مطالعہ
- Ages 5–9
- Classic retold
- 1840s
دیہات میں گرمیوں کا موسم تھا، اور ہر چیز ہری اور سنہری تھی۔
ایک پرانے فارم ہاؤس کے پاس، تالاب کے کنارے اونچے اونچے پتوں میں چھپی، ایک ماں بطخ اپنے گھونسلے پر بیٹھی تھی۔ وہ بہت، بہت دیر سے وہاں بیٹھی اپنے انڈوں کو گرم رکھ رہی تھی، اور اب کچھ اکتا سی گئی تھی۔
پھر آخرکار ایک آواز آئی۔ چٹخ!
پھر ایک اور۔ چٹخ! چٹخ!
ایک ایک کر کے چھلکوں میں سے ننھے پیلے سر باہر نکلے۔ "چیں! چیں!" بطخ کے بچوں نے بڑی سی روشن دنیا کو دیکھ کر آنکھیں جھپکاتے ہوئے کہا۔
"تم سب کتنے پیارے ہو،" ماں بطخ نے کہا۔ پھر اس نے نیچے دیکھا۔ "ارے! ایک انڈا تو ابھی نہیں پھوٹا۔ سب سے بڑا والا۔"
سب سے بڑا انڈا
ایک بوڑھی بطخ مٹکتی ہوئی پاس سے گزری اور گھونسلے میں جھانکا۔
"مجھے تو یہ کسی ٹرکی کا انڈا لگتا ہے،" اس نے کہا۔ "اسے چھوڑو۔ باقیوں کو پانی میں لے جاؤ۔"
لیکن ماں بطخ نے اپنے پر جھٹکے۔ "اتنی دیر اس پر بیٹھی ہوں،" اس نے کہا، "تو تھوڑی دیر اور بیٹھ سکتی ہوں۔"
سو وہ انتظار کرتی رہی۔ آخرکار بڑا انڈا چٹخ کر کھلا، اور اس میں سے ایک بچہ لڑھکتا ہوا باہر آیا۔
وہ بڑا تھا۔ وہ سرمئی تھا۔ اس کے پاؤں بڑے تھے اور گردن لمبی، اور وہ اپنے بہن بھائیوں جیسا ذرا بھی نہیں لگتا تھا۔
"ہائے،" ماں بطخ نے دھیرے سے کہا۔ "یہ تو بہت الگ ہے۔"
بہت بڑا، بہت سرمئی
اگلے دن وہ اپنے سب بچوں کو تالاب پر لے گئی۔ چھپاک! ایک کے بعد ایک سب پانی میں کود گئے۔ اور بڑا سرمئی بچہ سب سے اچھا تیرا، سیدھا اور مضبوطی سے۔
"دیکھا،" اس کی ماں نے فخر سے کہا، "یہ کوئی ٹرکی نہیں ہے۔ یہ میرا اپنا بچہ ہے، اور اگر غور سے دیکھو تو خاصا خوبصورت ہے۔"
لیکن فارم کے دوسرے جانوروں نے اسے غور سے نہیں دیکھا۔
"کتنا بدصورت بطخ کا بچہ ہے!" بطخیں قیں قیں کرنے لگیں۔
"بہت بڑا!" مرغیاں کڑکڑائیں۔
"بہت سرمئی!" ٹرکی گڑگڑایا۔
وہ اسے چونچیں مارتے، دھکیلتے اور اس پر ہنستے۔ یہاں تک کہ اس کے اپنے بہن بھائی بھی کہتے کہ کاش وہ کہیں چلا جائے۔ ہر دن حالات کچھ اور بگڑتے گئے، یہاں تک کہ بے چارے بطخ کے بچے کو لگنے لگا کہ ساری دنیا میں کوئی بھی اسے نہیں چاہتا۔
سو ایک صبح، بہت سویرے، وہ باڑ میں سے چپکے سے نکلا اور بھاگ گیا۔
بڑی دنیا میں اکیلا
وہ دلدلوں اور کھیتوں میں بھٹکتا پھرا۔ اسے جنگلی بطخیں ملیں، جنہوں نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا اور کہا کہ وہ بہت بدصورت ہے، لیکن اگر وہ ان کے راستے میں نہ آئے تو ان کی دلدل میں رہ سکتا ہے۔ اسے ایک بوڑھی عورت ملی جو ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں ایک بلی اور ایک مرغی کے ساتھ رہتی تھی۔ بلی نے کہا کہ وہ کسی کام کا نہیں کیونکہ وہ خرخرا نہیں سکتا، اور مرغی نے کہا کہ وہ کسی کام کا نہیں کیونکہ وہ انڈے نہیں دے سکتا۔
"میں تو بس تیرنا چاہتا ہوں،" بطخ کے بچے نے کہا۔ "مجھے پانی پر تیرنا اور گہرائی میں غوطہ لگانا بہت اچھا لگتا ہے۔"
"کیا بے وقوفی کی بات ہے،" مرغی نے کہا۔
سو اس نے وہ جھونپڑی بھی چھوڑ دی۔
خزاں آئی۔ پتے بھورے ہو کر ہوا میں اڑنے لگے۔ ایک شام، جب سورج ڈوب رہا تھا، بطخ کے بچے نے سرکنڈوں میں سے خوبصورت پرندوں کا ایک جھنڈ اڑتے دیکھا۔ وہ چمکتے ہوئے سفید تھے، ان کی گردنیں لمبی اور دلکش تھیں، اور انہوں نے اپنے بڑے بڑے پر پھیلائے اور جنوب کی طرف، گرم دیسوں کو اڑ گئے۔
بطخ کا بچہ انہیں تب تک دیکھتا رہا جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہو گئے۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ کون تھے۔ لیکن اس کے دل میں ایک عجیب سی، گہری کسک اٹھی، جیسے وہ ساری زندگی سے ان سے محبت کرتا آیا ہو۔
لمبی سردیاں
پھر سردیاں آئیں، اور بہت ٹھنڈ پڑی۔
بطخ کے بچے کو گول گول تیرتے رہنا پڑتا تاکہ اس کے گرد پانی جم نہ جائے۔ ایک صبح ایک مہربان کسان نے اسے برف میں پھنسا ہوا پایا، اپنے لکڑی کے کھڑاؤں سے برف توڑ کر اسے نکالا، اور اسے اپنے گھر والوں کے پاس لے گیا۔ لیکن کسان کے بچے اس سے کھیلنا چاہتے تھے، اور وہ اتنا شور مچاتے اور اچھل کود کرتے کہ ڈرا ہوا بطخ کا بچہ پھڑپھڑانے لگا اور دودھ الٹ دیا۔ اس افراتفری میں وہ دروازے سے باہر نکل بھاگا۔
باقی ساری سردیاں وہ سرکنڈوں میں چھپا رہا، ٹھٹھرتا ہوا اور اکیلا، انتظار کرتا ہوا۔
اور پھر ایک دن اسے اپنی پیٹھ پر دھوپ گرم محسوس ہوئی۔ چنڈول گا رہے تھے۔ بہار آ گئی تھی۔
بہار
بطخ کے بچے نے اپنے پر پھیلائے۔ اب وہ مضبوط لگ رہے تھے، پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط۔ اس نے انہیں ایک بار پھڑپھڑایا، دو بار، اور اچانک وہ اڑ رہا تھا۔ وہ کھیتوں اور باغوں کے اوپر اڑتا رہا، یہاں تک کہ آخرکار ایک خوبصورت باغ کی جھیل پر اترا۔
وہاں، پانی پر تیرتے ہوئے، ان سفید پرندوں میں سے تین تھے جنہیں اس نے خزاں میں دیکھا تھا۔
بطخ کے بچے کا دل دھک دھک کرنے لگا۔ "یہ مجھے بھگا دیں گے،" اس نے سوچا۔ "سب ہمیشہ یہی کرتے ہیں۔ لیکن اب اور اکیلا رہنے سے بہتر ہے کہ کسی اتنی خوبصورت چیز کے پاس رہوں۔"
وہ تیرتا ہوا ان کی طرف گیا، اور اپنا سر جھکا کر پانی تک لے آیا۔
اور ٹھہرے ہوئے پانی میں اسے اپنا عکس دکھائی دیا۔
وہ اب کوئی بھدا سرمئی بطخ کا بچہ نہیں تھا۔ اسے ایک سفید پرندہ دیکھ رہا تھا، جس کی گردن لمبی اور دلکش تھی۔
وہ ایک راج ہنس تھا۔
تینوں راج ہنس اس کے گرد تیرنے لگے اور اپنی چونچوں سے اسے پیار سے سہلانے لگے، جیسے کہہ رہے ہوں، گھر میں خوش آمدید۔ بچے روٹی لے کر جھیل کی طرف دوڑے آئے۔ "دیکھو!" سب سے چھوٹا بچہ چلایا۔ "ایک نیا آیا ہے! اور یہ سب سے خوبصورت ہے!"
نوجوان راج ہنس نے شرما کر اپنا سر پر کے نیچے چھپا لیا۔ وہ بہت خوش تھا، لیکن ذرا بھی مغرور نہیں تھا۔ اسے اچھی طرح یاد تھا کہ جب کوئی آپ پر ہنستا ہے تو کیسا لگتا ہے۔
اس کہانی کے بارے میں
ڈنمارک کے ادیب ہانس کرسچن اینڈرسن نے "بدصورت بطخ کا بچہ" 1843 میں شائع کی۔ اینڈرسن ایک غریب موچی کے بیٹے تھے، جنہیں بچپن میں ایک لمبے، دبلے اور بھدے لڑکے کے طور پر چھیڑا جاتا تھا، اور پھر وہ دنیا کے سب سے مشہور قصہ گوؤں میں سے ایک بن گئے۔ بہت سے قارئین نے اس کہانی میں ان کی اپنی زندگی کی جھلک دیکھی ہے۔ ان کی اصل کہانی کہتی ہے کہ اگر تم راج ہنس کے انڈے سے نکلے ہو تو بطخوں کے باڑے میں پیدا ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ اس کہانی کی ایک مختصر اور آسان بازگوئی ہے۔